ویب ڈیسک
|
4 مہینے پہلے
واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کا مرکزی کردار !پاکستان اہم اسٹریٹجک شراکت دار بن گیا

پاکستان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں تنہائی سے شراکت داری تک کا طویل سفر طے کر لیا ہے۔ برسوں کی بداعتمادی کے بعد اب امریکہ پاکستان کو ایک قیمتی علاقائی اتحادی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ یہ بڑی تبدیلی 2025 میں جنوبی ایشیا کی سفارتی حیثیت کو نمایاں طور پر بدل رہی ہے۔
یہ تبدیلی اُس وقت شروع ہوئی جب سال کے آغاز میں دونوں ممالک نے انسدادِ دہشت گردی تعاون کو دوبارہ فعال کیا۔ مارچ میں ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی غیر متوقع تعریف نے واشنگٹن کو حیران کر دیا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو نئی سفارتی ساکھ، اعتراف اور بڑھتی ہوئی اہمیت ملی۔ یوں تعلقات بتدریج محض لین دین سے نکل کر اسٹریٹجک شراکت داری میں بدلنے لگے۔
فیصلہ کن موڑ اُس وقت آیا جب مئی میں بھارت کے ساتھ مختصر مگر اہم جھڑپ کے دوران پاکستان کی مضبوط اور نظم و ضبط پر مبنی عسکری حکمت عملی سامنے آئی۔ ٹرمپ انتظامیہ اس کارکردگی سے متاثر ہوئی۔ نتیجتاً، واشنگٹن نے پاکستان کو دوبارہ ایک سنجیدہ علاقائی طاقت کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا، جس سے دفاعی مکالمہ اور اسٹریٹجک تعاون مزید مضبوط ہوا۔
مزید برآں، صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت نے تعلقات کو مزید تقویت دی۔ وائٹ ہاؤس میں تاریخی لنچ میٹنگ اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی دوروں نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی حیثیت کو نمایاں کیا۔ ٹرمپ نے پاکستان کے کردار کو سراہا جبکہ پاکستان نے ان کی ثالثی کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ یوں یہ شراکت داری تیزی سے آگے بڑھی اور عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔
آج پاکستان ٹرمپ کی جنوبی ایشیا اور وسیع تر خطے کی حکمتِ عملی کے مرکز کے قریب کھڑا ہے۔ یہ ایران کے حوالے سے رابطے، مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ اور چین کے بڑھتے اثر کے مقابل توازن فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ یہ تبدیلی ابھی جاری عمل ہے، مگر پاکستان نے واضح طور پر اپنی اسٹریٹجک اہمیت دوبارہ حاصل کر لی ہے اور اب علاقائی طاقت اور امریکی پالیسی کے مستقبل پر ہونے والی اہم بحثوں کو متاثر کر رہا ہے۔
- دنیا کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ FIFA World Cup 2026 کے لیے انعامی رقم اور ٹیموں کی تفصیلات سامنے…6 گھنٹے پہلے














